ہوناور،27 / جون (ایس او نیوز) پولیس کسٹڈی میں ملزم کی موت کے بعد پولیس کے تفتیشی طریقہ کار پر سوال اٹھنا ایک عام بات ہے اور ہوناور پولیس اسٹیشن میں دو تین دن قبل تفتیش کے دوران جو مشتبہ ملزم دلیپ منڈل کی موت واقع ہوئی ہے اس پر بھی اب سوال اٹھنے لگے ہیں ۔
ریاست میں سدا رامیا کی کانگریسی حکومت اقتدار پر آنے کے ایک مہینے کے اندر ہی ضلع شمالی کینرا کے ہوناور پولیس اسٹیشن میں بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے زیر تفتیش ملزم کی موت کا واقعہ پیش آیا جس کے تعلق سے پولیس افسران کا کہنا ہے اس نے پانی پینے کے بہانے زہر کھا کر خود کشی کی ہے ۔
اس معاملے میں ایک اچھا پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ زیر تحویل ملزم کی پولیس تھانے میں موت واقع ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ نے متعلقہ تھانے کے انسپکٹر سمیت اس معاملے میں ملوث دیگر اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے ۔ اس سے آئندہ ہونے والی تحقیق شفاف و غیر جانبدار ہونے کے آثار پیدا ہوئے ہیں ۔
ریاستی ہائی کورٹ نے پولیس کی زیادتیوں یا تھرڈ ڈگری تفتیشی طریقہ کار سے ہونے والی ملزمین کی موت کے سلسلے میں واضح حکم دے رکھا ہے کہ ایسے تمام معاملوں کی تحقیقات سی آئی ڈی سے کروانی چاہیے ۔ لہٰذا ہوناور میں ہوئی دلیپ منڈل کی موت کی حقیقت جاننے کے لئے سرکار کی طرف سے یہ معاملہ سی آئی ڈی کو سونپا گیا ہے ۔
ہوناور پولیس اسٹیشن کا موقف اگرچہ یہ ہے کہ دو مشتبہ ملزمین سے ایک نے زہر کھایا تھا ۔ مگر آسانی سے یہ بات عوام کے حلق سے نیچے نہیں اتر رہی ہے ۔ کیونکہ پولیس کی طرف سے ملزمین یا شکایت کنندہ افراد کے سماجی رتبے اور اثر و رسوخ کو سامنے رکھ کر ہی اکثر و بیشتر تحقیقات کی جاتی ہے ۔ اگر پولیس کی کسٹڈی میں کسی کمزور سماجی طبقے یا رتبے والے ملزم کی موت ہوتی ہے تو یہ شک اور بھی زیادہ گہرا ہوجاتا ہے کیونکہ زیادہ تر ایسے افراد کے ساتھ تھرڈ ڈگری تفتیشی طریقہ کار اپنانا پولیس افسران اور اہلکاروں کا معمول ہوتا ہے ۔ بعض دفعہ پولیس اہلکار اپنے اعلیٰ افسران یا سیاسی طور پر با اثر افراد کو خوش کرنے کے لئے معمولی جرم کے ملزمین پر یا پھر کبھی کبھی صرف شبہ کی بنیاد پر بے گناہ افراد پر بھی تفتیش کے نام پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ زیر حراست موت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ۔
یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ پولیس تھانوں میں ہوئے ملزمین یا قیدیوں کی موت کے ہر معاملہ کو پولیس کی زیادتی اور تھرڈ ڈگری کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوتا ۔ ایسے حالات میں حقائق کا پتہ لگانے کے بعد خاطی افسران یا اہلکاروں کو اس کی سزا دلانے کے لئے واحد راستہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج اور سی آئی ڈی کی تحقیقات ہوتی ہے ۔
پولیس کی بدعنوانیوں، ملزمین پر زیادتیوں اور حقوق انسانی کی پامالیوں کو روکنے کے لئے ہائی کورٹ نے تمام پولیس تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دے رکھا ہے ، مگر اب تک ریاست کے تمام پولیس تھانوں میں اس کا حکم کا یا تو اطلاق نہیں ہوا ہے یا پھر لگائے گئے کیمرے خراب ہونے کا بہانہ پیش کرنا عام بات ہوگئی ہے ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ملزمین کو تحویل میں لینے ، گرفتار کرنے اور تفتیش کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جو واضح ہدایات ہیں پولیس افسران اور اہلکار اس کی کوئی پروا نہیں کرتے ۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ کسی شخص پر اگر کوئی الزام لگتا ہے تو اس کی تفتیش کے لئے گرفتاری ضروری نہیں ہے ۔ مگر اس ہدایت کو بھی اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔
ہوناور پولیس اسٹیشن میں جس شخص کی موت واقع ہوئی ہے اس کا تعلق بیرون ریاست سے ہونے کی وجہ سے پولیس کے خلاف عوام کا غصہ اس انداز میں پھوٹا نہیں جس طرح کسی مقامی شخص کی بات ہوتی تو پھوٹ سکتا تھا ۔ ورنہ اگر کوئی مقامی شخص کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تو سماجی ادارے اور سیاسی افراد اس طرح کب خاموش بیٹھ سکتے تھے ۔ اسی ایک پہلو نے پولیس کو فوری عوامی احتجاج اور اشتعال سے تحفظ فراہم کیا ہے ۔ اور اسی سبب سے اس معاملہ میں پولیس کو بے قصور بتانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے ۔
چونکہ اس معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کی طرف سے ہو رہی ہے تو عوام توقع کر رہے ہیں کہ جلد ہی دلیپ منڈل کی موت کی حقیقت سامنے آئے گی اور اگر اس میں پولیس کی زیادتی کی بات ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ پولیس افسر اور اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ چلنا اور انہیں کڑی سزا ملنا لازمی ہے ۔
اسی نیوز سے متعلق پہلے شائع شدہ رپورٹ: